آل[3]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پیاز کی پتھی، پیاز کے ڈنٹھل جو پتوں کی جگہ اوپر نکلے ہوئے ہوتے ہیں۔ (پلیٹس) ٢ - پیاز یا لہسن کے پودے کے پتے جن سے جڑ بڑھتی ہے۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 3:6) ٤ - ایک درخت جس کی لکڑی سے سرخ رنگ نکلتا ہے، پتنگ۔ (ماخوذ : کتاب الادویہ، 94:2) "آل، کنیر، بڑ اور پھنس کی شاخوں میں کلیوں کا معائنہ کرو۔"      ( ١٩٣٨ء، عملی نباتات، ٣٧ ) ٧ - آنچ، مضرت۔  نہ ڈر روز محشر ستی سیدا کہ آل نبی پر نہ آئے گی آل      ( ١٧٠٧ء، ولی، کلیات، ١١٤ ) ٨ - مینڈ، کھیت وغیرہ میں دو نالیوں کے بیچ کا ابھار۔ "تخم ریزی کے وقت آل کی بنا کر کے ہر ایک آل میں بقدر انداز سار ڈالنے لگے۔"      ( ١٨٤٥ء، دولت ہند، ٩ )

اشتقاق

یہ لفظ ہندی زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں اصلی معنی اور اصلی حالت میں ہی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٤٥ء میں "دولت ہند" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٤ - ایک درخت جس کی لکڑی سے سرخ رنگ نکلتا ہے، پتنگ۔ (ماخوذ : کتاب الادویہ، 94:2) "آل، کنیر، بڑ اور پھنس کی شاخوں میں کلیوں کا معائنہ کرو۔"      ( ١٩٣٨ء، عملی نباتات، ٣٧ ) ٨ - مینڈ، کھیت وغیرہ میں دو نالیوں کے بیچ کا ابھار۔ "تخم ریزی کے وقت آل کی بنا کر کے ہر ایک آل میں بقدر انداز سار ڈالنے لگے۔"      ( ١٨٤٥ء، دولت ہند، ٩ )

جنس: مؤنث